Wednesday, February 18, 2026
Wednesday, February 18, 2026
Wednesday, February 18, 2026
spot_img
spot_img
A venture of Pen First Media and Entertainment Pvt. Ltd
Member of Working Journalist Media Council Registered by - Ministry of Information and and Broadcasting, Govt. Of India. New Delhi
HomeUrduمیڈیا کا گرتا ہوا معیار اور نظریاتی پولرائزیشن: ایک سنگین بحران

میڈیا کا گرتا ہوا معیار اور نظریاتی پولرائزیشن: ایک سنگین بحران

By – Waseem Raza Khan

“Does God Exist?” حال ہی میں ‘للن ٹاپ’ پر سوربھ دویدی کی جانب سے پیش کردہ پروگرام

نے ڈیجیٹل میڈیا کی اخلاقیات اور اس کے پیچھے چھپے مبینہ ایجنڈے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جاوید اختر اور مفتی شمائل ندوی کے درمیان ہونے والی اس بحث کو کئی تجزیہ نگار محض ایک ‘فلسفیانہ گفتگو’ نہیں، بلکہ معاشرے میں دراڑیں پیدا کرنے کی ایک گہری سازش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ جب موضوع ‘خدا کا وجود’ تھا، تو منطقی طور پر جاوید اختر (جو کہ ایک اعلانیہ ملحد ہیں) کے سامنے کسی سناتنی عالم یا اکثریتی سماج کے فلسفی کو ہونا چاہیے تھا۔ لیکن جان بوجھ کر ایک ‘مفتی’ کا انتخاب کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مقصد سچ کی تلاش نہیں، بلکہ ایک خاص طبقے کے اندر نظریاتی تصادم پیدا کرنا تھا۔ یہ حکمت عملی اکثر آر ایس ایس (RSS) اور دائیں بازو کے نظریات سے متاثر ٹی وی چینلز کے ذریعے اپنائی جاتی ہے، جہاں گفتگو کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دیا جاتا ہے۔

سوربھ دویدی جیسے صحافیوں پر یہ الزام اکثر لگتا رہا ہے کہ وہ اپنے دیسی اور سادہ انداز کی آڑ میں ان مسائل کو ہوا دیتے ہیں جو معاشرے کو جوڑنے کے بجائے تقسیم کرتے ہیں۔ جب میڈیا ادارے کسی خاص نظریے (جیسے آر ایس ایس) کے ترجمان کے طور پر کام کرنے لگتے ہیں، تو صحافت ‘جمہوریت کے چوتھے ستون’ سے گر کر ‘اقتدار کے ہاتھ کی کٹھ پتلی’ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ہوا میں زہر گھولنے کا کام صرف براہِ راست نفرت پھیلا کر نہیں، بلکہ ایسے فکری معرکے چھیڑ کر بھی کیا جاتا ہے جس کا حتمی نتیجہ سماجی تناؤ ہی ہوتا ہے۔

اس مضمون کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اگر اس بحث میں جاوید اختر کی باتیں موثر ثابت ہوتیں، تو اسے ‘اسلام بمقابلہ جدیدیت’ کے طور پر پیش کیا جاتا۔ اور چونکہ یہاں مفتی صاحب نے اپنے دلائل مضبوطی سے رکھے، تو اسے ایک الگ طرح کی پولرائزیشن (تقطیب) کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کھیل دوہرا ہے۔ اگر ملحد جیتتا ہے تو مذہب کو خطرے میں بتایا جاتا ہے، اور اگر مذہبی عالم جیتتا ہے تو اسے انتہا پسندی کے چشمے سے پیش کرنے کی زمین تیار کی جاتی ہے۔ اس طرح کے پروگراموں کا سب سے برا اثر ‘نیوٹرل’ یا سیکولر سماجی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ میڈیا کا کام عوامی مفاد کے مسائل (تعلیم، صحت، بے روزگاری) پر بات کرنا ہے، لیکن موجودہ دور میں آر ایس ایس نواز میڈیا نیٹ ورک عوام کی توجہ بھٹکانے کے لیے خدا، مذہب اور شناخت کی سیاست کو مرکزی دھارے میں بنائے رکھتا ہے۔ آج کا میڈیا جمہوریت کا پاسبان ہونے کے بجائے تنازعات کا بیوپاری بن گیا ہے۔ سوربھ دویدی جیسے صحافیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ صحافت کا اصل مذہب معاشرے میں مکالمہ قائم کرنا ہے، نہ کہ اسے میدانِ جنگ میں بدلنا۔ اگر میڈیا اداروں نے اپنے نظریاتی جھکاؤ کو قومی مفاد سے اوپر رکھا، تو وہ معاشرے میں صرف نفرت اور زہر ہی بانٹیں گے، جس کا ازالہ آنے والی نسلیں بھی نہیں کر پائیں گی۔

میڈیا کے ذریعے معاشرے میں دراڑ پیدا کرنے کے طریقے:
جہاد کی اصطلاحات کا غلط استعمال: کئی چینلز نے ‘لینڈ جہاد’، ‘لو جہاد’، ‘یو پی ایس سی جہاد’ اور ‘معاشی جہاد’ جیسی اصطلاحات گھڑی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ لغت آر ایس ایس کے اس نظریے کی توسیع ہے جو ایک خاص طبقے کو ‘اندرونی دشمن’ کے طور پر پیش کرتی ہے۔

غیر متوازن پینل ڈسکشن: چینلز کی یہ پرانی حکمت عملی رہی ہے کہ وہ ایک طرف انتہائی لبرل (آزاد خیال) شخص کو رکھتے ہیں اور دوسری طرف کسی انتہا پسند تصویر والے شخص کو۔ اس کا مقصد کسی بامعنی نتیجے پر پہنچنا نہیں، بلکہ ناظرین کے ذہنوں میں یہ بٹھانا ہوتا ہے کہ دوسرا فریق غیر منطقی یا متعصب ہے۔

حقیقی مسائل سے توجہ بھٹکانا: جب بھی ملک میں بے روزگاری، مہنگائی یا معاشی مندی جیسے سنگین سوالات اٹھتے ہیں، تو اکثر یہ چینلز مندر-مسجد، ہندو-مسلم یا ‘خدا ہے یا نہیں’ جیسے جذباتی مسائل پر بحث شروع کر دیتے ہیں۔ اسے ‘ایجنڈا سیٹنگ’ کہا جاتا ہے، جس کا براہِ راست فائدہ حکمراں نظریے کو ملتا ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا ‘سافٹ پروپیگنڈا’: للن ٹاپ جیسے پلیٹ فارمز اپنی زبان کو بہت غیر رسمی اور ‘دوستانہ’ رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے موضوعات کا انتخاب (جیسے جاوید اختر بمقابلہ مفتی) اکثر اسی سماجی تقسیم کو گہرا کرتا ہے جسے ٹی وی چینل چیخ چلا کر کرتے ہیں۔ یہ ‘سافٹ پروپیگنڈا’ زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ غیر جانبداری کے لبادے میں آتا ہے۔

معاشرے پر اس کے طویل مدتی اثرات:
رواداری میں کمی: جب لوگ دن رات اسکرین پر مذہب اور شناخت کی لڑائی دیکھتے ہیں، تو ان کے اندر دوسری برادریوں کے تئیں بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔

صحافت کی ساکھ کا خاتمہ: جب صحافی سوال پوچھنے کے بجائے کسی نظریے (جیسے آر ایس ایس) کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں، تو عام آدمی کا میڈیا سے بھروسہ اٹھ جاتا ہے۔ سوربھ دویدی جیسے صحافی نوجوانوں میں مقبول ہیں۔ اگر وہ متنازع اور اشتعال انگیز موضوعات کو ‘کول’ (Cool) انداز میں پیش کریں گے، تو نوجوان نسل منطقی سوچ کے بجائے نظریاتی نفرت کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

میڈیا، کارپوریٹ اور سیاست: ‘کرونی جرنلزم’ کا جال
آج بھارت کے بیشتر بڑے میڈیا ادارے چند گنے چنے ارب پتیوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ ان کا مقصد صحافت سے منافع کمانا کم اور اپنے دیگر کاروباری منصوبوں کے لیے حکومت سے سازگار پالیسیاں بنوانا زیادہ ہوتا ہے۔

رReliance Industries (مکیش امبانی): ‘Network18’ گروپ (جس میں News18، CNN-News18 اور کئی علاقائی چینلز شامل ہیں) کی ملکیت ریلائنس کے پاس ہے۔ امبانی کے اقتدار کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے ان چینلز کا جھکاؤ اکثر دائیں بازو کے ایجنڈے کی طرف رہتا ہے۔

Adani Group (گوتم اڈانی): حال ہی میں اڈانی گروپ نے NDTV حاصل کیا۔ اس کے بعد NDTV کی ادارتی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، جسے ناقدین آزاد صحافت کا خاتمہ قرار دیتے ہیں۔

Aditya Birla Group: انڈیا ٹوڈے گروپ (جس کا حصہ للن ٹاپ اور آج تک ہیں) میں آدتیہ برلا گروپ کا بڑا حصہ ہے۔

میڈیا اداروں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ سرکاری اشتہارات ہوتے ہیں۔ مرکز اور ریاستی حکومتوں کے پاس اربوں روپے کا اشتہاری بجٹ ہوتا ہے۔ جو چینل حکومت یا اس کے نظریے (آر ایس ایس) کے خلاف رپورٹنگ کرتے ہیں، ان کے اشتہارات کاٹ دیے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو چینل ‘ہندو-مسلم’ بحث یا سرکاری منصوبوں کی قصیدہ خوانی کرتے ہیں، انہیں بھاری فنڈنگ ملتی ہے۔ یہ معاشی دباؤ ایڈیٹرز کو ‘گودی میڈیا’ بننے پر مجبور کر دیتا ہے۔

سوربھ دویدی کا پلیٹ فارم ‘للن ٹاپ’، ‘انڈیا ٹوڈے گروپ’ کا حصہ ہے جس کے چیئرمین ارون پوری ہیں۔ انڈیا ٹوڈے گروپ اکثر ‘بیلنسنگ ایکٹ’ کے لیے جانا جاتا تھا، لیکن پچھلے چند برسوں میں اس کے پروگراموں (جیسے ‘ایجنڈا آج تک’) میں دائیں بازو کے رہنماؤں اور نظریات کو جتنا اسٹیج ملا ہے، اس سے اس کے جھکاؤ کا پتہ چلتا ہے۔ للن ٹاپ جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اشتہارات کے علاوہ ‘ویورشپ’ سے پیسہ ملتا ہے۔ ‘خدا بمقابلہ مفتی’ جیسے متنازع تھمب نیلز اور موضوعات زیادہ کلکس اور شیئر لاتے ہیں، جس سے یوٹیوب ایڈ ریونیو بڑھتا ہے۔ یہاں تجارت اور فرقہ وارانہ پولرائزیشن ایک دوسرے کے مددگار بن جاتے ہیں۔

کئی میڈیا ہاؤسز کے مالکان براہِ راست سیاست سے وابستہ ہیں:

Zee News: اس کے سابق مالک سبھاش چندرا بی جے پی کی حمایت سے راجیہ سبھا کے رکن رہے۔

Republic TV: ارنب گوسوامی کے چینل کو ابتدائی فنڈنگ دینے والوں میں راجیو چندر شیکھر شامل تھے، جو بی جے پی حکومت میں وزیر رہے۔

RELATED ARTICLES
- Advertisment -spot_img

Most Popular

You cannot copy content of this page

error: Content is protected !!