Tuesday, September 15, 2026
Tuesday, September 15, 2026
Tuesday, September 15, 2026
spot_img
spot_img
A venture of Pen First Media and Entertainment Pvt. Ltd
Member of Working Journalist Media Council Registered by - Ministry of Information and and Broadcasting, Govt. Of India. New Delhi
HomeUrduہائی کورٹ پہنچے ٹیپو سلطان (ایک مکالمہ)

ہائی کورٹ پہنچے ٹیپو سلطان (ایک مکالمہ)

وسیم رضا خان (سینئر صحافی – 9370170870)

مقام: بامبے ہائی کورٹ، کورٹ روم
کردار:
جج، ٹیپو سلطان، درخواست گزار کے وکیل

جج: درخواست گزار کون ہے؟
(ڈپٹی میئر شان ہند کھڑی ہوتی ہیں، لیکن اسی اثنا میں عدالت میں میسور کے سابق حکمران ٹیپو سلطان تاریخی لباس میں پہنچ جاتے ہیں۔ سبھی حیران ہو کر انہیں دیکھنے لگتے ہیں۔)

جج: (حیرانی اور تعجب کے تاثرات کے ساتھ) ٹیپو سلطان؟ تاریخ کے صفحات سے نکل کر آج اس اکیسویں صدی کی عدالت میں!؟ یقین کرنا مشکل ہے. آپ عدالت میں کسیے، بتائیے، آپ عدالت سے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

ٹیپو سلطان: (عدالت کو احترام سے سلام کرتے ہوئے) مائی لارڈ! پہلے تو معذرت چاہتا ہوں کہ اس طرح بغیر بتائے اکیسویں صدی کی عدالت میں پہنچ گیا ہوں۔

جج: کوئی بات نہیں، بتائیے… کس لیے تشریف لائے ہیں؟

ٹیپو سلطان: مائی لارڈ، مجھے درخواست گزار کی مانگ سے متعلق اپنی بات رکھنی ہے۔

جج: کہیے.. آپ موجودہ صدی کی عدالت میں ہیں، اس لیے آپ کو اپنی بات رکھنے کا حق دیا جاتا ہے۔

ٹیپو سلطان: مائی لارڈ، تاریخ کا کام ماضی کی گواہی دینا ہے، حال کے سیاسی تنازعات کا ایندھن بننا نہیں۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں میری ایک تصویر دیوار پر ٹنگ گئی، تو کچھ لوگوں کے جذبات مجروح ہو گئے۔ تصویر ہٹا دی گئی، تو معاملہ عدالت تک آ گیا۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کیا میری ایک تصویر دیوار پر ٹنگ جانے یا ہٹ جانے سے مالیگاؤں کی سڑکوں کے گڈھے بھر گئے؟ کیا پانی کی قلت دور ہو گئی؟ کیا بچوں کے مستقبل سنور گئے؟

جج: (سنجیدگی سے سنتے ہوئے) آپ جو کہہ رہے ہیں، وہ عوامی مفاد کا پہلو ہے۔ لیکن شکایت کنندگان کے دلائل ہیں کہ تاریخ کے کچھ ابواب سے سماجی حساسیت جڑی ہوتی ہے۔

ٹیپو سلطان: مائی لارڈ! اگر حساسیت تاریخ سے جڑی ہے، تو انتظامی صلاحیتوں کا استعمال شہر کے مسائل کو حل کرنے میں ہونا چاہیے، دیواروں پر ٹنگی تصویروں کیلئے لڑنے میں نہیں۔ ایک حکمران کے طور پر میں نے اپنے دور میں جنگیں لڑیں، لیکن آج کے عوامی نمائندوں کی جنگ غریبی، جہالت اور بدحالی سے ہونی چاہیے۔ تصویر کی بنیاد پر معاشرے میں درار پیدا کرنا اور سیاسی روٹیاں سیکنا کس قسم کا انصاف ہے؟ میری گزارش ہے کہ عدالت شکایت کنندگان اور مقامی انتظامیہ کو یہ سخت ہدایت دے کہ وہ اپنا دھیان حقیقی عوامی مسائل اور انتظامی اصلاحات پر لگائیں۔

درخواست گزار کے وکیل: (بیچ میں ٹوکتے ہوئے) مائی لارڈ! یہ عوامی جذبات کا سوال ہے! تصویر سے سماجی ہم آہنگی پر اثر پڑتا ہے۔

ٹیپو سلطان: (وکیل کی طرف دیکھتے ہوئے مضبوط آواز میں) ہم آہنگی تصویر سے نہیں، نیت اور کام سے بگڑتی ہے! جب آپ کسی علامت کو نفرت کا ذریعہ بناتے ہیں، تب درار گہری ہوتی ہے۔ اگر انتظامی افسران اور رہنما دن رات صرف اس بات پر بحث کریں گے کہ دیوار پر کس کی فوٹو رہے گی، تو عوام کا کام کب ہوگا؟

جج: (پین نیچے رکھتے ہوئے، غور و فکر کے بعد) ٹیپو سلطان جی، آپ کی باتیں صرف تاریخ کا نقطہ نظر نہیں، بلکہ آج کی جمہوریت کی کڑوی سچائی کو ظاہر کرتی ہیں۔ عدالت سیاست اور جذباتی مسائل سے اوپر اٹھ کر عوام کے بنیادی حقوق اور بہتر حکمرانی کو ترجیح دیتی ہے۔

(جج اپنا فیصلہ لکھنا شروع کرتے ہیں)

جج: بامبے ہائی کورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ کسی بھی شہر کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود علامتوں کی سیاست سے نہیں، بلکہ ٹھوس انتظامی کاموں سے طے ہوتی ہے۔ عدالت شکایت کنندگان اور میونسپل کارپوریشن انتظامیہ کو ہدایت دیتی ہے کہ وہ اپنا دھیان اور وسائل مالیگاؤں کے بنیادی مسائل—جیسے صفائی، سڑک، پانی اور صحت کی خدمات کے حل پر مرکوز کریں۔ تصویروں اور علامتوں کو لے کر بلا وجہ سماجی کشیدگی پیدا کرنے کے رجحان پر روک لگائی جائے۔ دفتر میں تصویریں رہیں یا نہ رہیں شہری ترقیاتی کام انتظامیہ کا مقصد ہونا چاہیے. جہاں تک تصویریں لگانے کا تعلق ہے تو ٹیپوسلطان کی باتوں اور ان کی خواہش کا احترام کیا جانا ضروری ہے. درخواست کا نمٹارا اسی ہدایت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

(عدالت کا ماحول پرسکون ہو جاتا ہے۔ ٹیپو سلطان جج کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور کورٹ سے رخصت ہوتے ہیں۔

RELATED ARTICLES
- Advertisment -spot_img

Most Popular

You cannot copy content of this page

error: Content is protected !!