✍️ وسیم رضا خان
مالیگاؤں کی سیاست اس وقت جس راہ پر چل رہی ہے، وہ شہر کے عوام کے لیے کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ انتخابات ہوئے سال بھر بیتنے کو آیا، کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، کارپوریٹرز میں فنڈز بھی تقسیم کیے گئے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ بنیادی ترقی کا نام و نشان تک غائب ہے۔ گندے نالے، ٹوٹاپھوٹا انفراسٹرکچر، ناقص طبی سہولیات اور گرتا ہوا تعلیمی معیار مالیگاؤں کے عوام کی روزمرہ کی سچائی یہی ہے۔ جس فنڈ کا استعمال شہر کی تصویر بدلنے کے لیے ہونا چاہیے تھا، وہ صرف کاغذی خانہ پری اور سیاسی آقاؤں کی چاپلوسی کی نذر ہو چکا ہے۔
شہر میں آج ایک عجیب طرح کا سیاسی سرکس چل رہا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے اور تجربے کار کارپوریٹرز اپنی ذمہ داری بھول کر صرف اپنے رہنماؤں کے اشاروں پر ناچنے میں مصروف ہیں۔ جب عوام سے جڑے اصل مسائل پر بات کرنے کی باری آتی ہے، تو ہرے جھنڈے لہرانے اور لال ٹوپیوں کے تماشے دکھا کر لوگوں کی توجہ بھٹکانے کی پتنگ اڑانے لگتے ہیں..تعجب کی بات یہ ہے کہ شہر کا میڈیا، جسے جمہوریت کا چوتھا ستون ہونا چاہیے تھا، وہ بھی اس بے ڈھنگی سیاست کے سامنے خاموش ہے یا یکطرفہ روّیہ اپنا کر سوال پوچھنے کی اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہا ہے۔
مالیگاؤں میں جمہوریت کا سب سے بڑا مذاق ‘ڈمی کارپوریٹرز’ نے بنا رکھا ہے۔ کئی وارڈوں میں خاتون کارپوریٹرز صرف کاغذات تک محدود ہیں، جبکہ وارڈ میں لیڈر گیری ان کے شوہر یا بھائی بیٹے چلا رہے ہیں۔ جن خاتون نمائندوں کو عوام نے منتخب کر کے بھیجا تھا، انہیں آج تک وارڈ کے لوگوں نے کام کرتے دیکھا نہیں ہے۔ دوسری طرف، میئر کی بے بسی اور ڈپٹی میئر و ان کے کارپوریٹر شوہر کی چالاکیوں نے عوام کو پوری طرح دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔
ٹیپو سلطان کی تصویر کا تازہ تنازع کوئی اتفاق نہیں، بلکہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کی جانے والی سوچی سمجھی سیاسی کھینچ تان ہے۔ جب بھی تعلیم، ہسپتال اور بنیادی سہولیات پر جواب دینے کا وقت آتا ہے، تو ایسے حساس تنازعات کو ہوا دے دی جاتی ہے۔ مالیگاؤں کے ایک ہی برادری کے لیڈروں کو آپس میں لڑا کر اور اس پولرائزیشن کو نیشنل میڈیا کا مسالحہ بنا کر سیاسی روٹیاں سیکھی جا رہی ہیں۔ یہ لڑائی صرف مالیگاؤں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ اس کے ذریعے قومی سطح پر فائدے کی بساط بچھائی جا رہی ہے۔ یہ پولیٹیکل سٹنٹ ابھی ختم نہیں ہوا ہے، اسے طویل کیا جائے گا، کورٹ جانے کا ناٹک ہوگا، ودھان سبھا میں اپوزیشن مالیگاؤں شہر کے نام پر کیچڑ اچھال اچھال کر شہرکو قصوروار بتائے گا اور یہ مدعا وہاں سے نکل پر پارلیمنٹ تک بھی پہنچ سکتا ہے اور پھر شہر کی قمست میں آئے گا نیا پچھڑا پن، معاشی بحران، مزدوروں اور کارخانہ داروں کی چیخ پکار اور بے بسی.
اب خاموش تماشائی بنے رہنے اور امید بھری نظروں سے ان ناکام لیڈروں کو دیکھنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اس سیاسی سازش کو سمجھئے! جب تک آپ اپنے بچوں کی تعلیم اور خاندان کی صحت پر سوال نہیں کریں گے، تب تک یہ چالاک سیاست دان آپ کو جذباتی باتوں اور مسائل کی آگ میں جھونکتے رہیں گے۔ اپنے کارپوریٹرز سے فنڈز کا پائی پائی کا حساب مانگئے۔ڈمی لیڈروں کو مسترد کیجئے اور اصل منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنائیے۔ سیاسی پولرائزیشن کے اس کھیل کو پہچانئے اور جذباتی نعروں کے بجائے کام کی بنیاد پر لیڈروں کو پرکھئے۔اگر آج مالیگاؤں کے عوام بیدار نہیں ہوئے، تو شہر کے حقوق کی یہ پامالی یوں ہی ہوتی رہے گی اور آنے والی نسلیں اس خاموشی کی قیمت چکاتی رہیں گی۔




