Thursday, April 23, 2026
Thursday, April 23, 2026
Thursday, April 23, 2026
spot_img
spot_img
A venture of Pen First Media and Entertainment Pvt. Ltd
Member of Working Journalist Media Council Registered by - Ministry of Information and and Broadcasting, Govt. Of India. New Delhi
HomeUrduاقتدار کی طاقت کا مظاہرہ یا عوام کا استحصال؟ ورلی کی سڑک...

اقتدار کی طاقت کا مظاہرہ یا عوام کا استحصال؟ ورلی کی سڑک پر درد کی چیخ

Article by WASEEM RAZA KHAN

ممبئی کے ورلی میں گزشتہ کل جو منظر دیکھنے کو ملا، وہ جدید بھارت کی سیاست کے اس کڑوے سچ کو بے نقاب کرتا ہے جہاں عوام کی خدمت کا نعرہ دینے والے ہی عوام کی پریشانی کا سبب بن جاتے ہیں۔ ایک خاتون کا گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنا اور آخر کار کابینی وزیر گریش مہاجن کو ‘گیٹ آؤٹ’ کہہ دینا، کوئی معمولی غصہ نہیں ہے۔ یہ اس عام شہری کی چیخ ہے جو اقتدار کے نشے میں چور حکمرانوں کے کھوکھلے طاقت کے مظاہرے کے نیچے دب کر بھی ابھرنے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے.
یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے کہ جس جماعت کی حکومت مرکز سے لے کر ریاست تک ہے، وہ اپنی ہی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے سڑکوں پر مورچہ نکال رہی ہے۔ بی جے پی کا یہ ‘احتجاجی مورچہ’ اس خواتین ریزرویشن بل کے نام پر تھا، جسے پاس کرانے کی پوری ذمہ داری اور طاقت انہی کے پاس تھی لیکن وہ ناکام رہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ کے پاس اکثریت ہے، اگر آپ کے پاس اقتدار ہے، تو آپ سڑکوں پر کسے چیلنج کر رہے ہیں؟ کیا یہ اپوزیشن کا خوف ہے یا اپنی نااہلی کو چھپانے کا ایک ڈرامہ؟ بی جے پی آج خواتین کی ہمدرد بننے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ خواتین کے حقوق کی لڑائی تب شروع ہوئی تھی جب بی جے پی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ خواتین کو مساوی حقوق دینے کی بنیاد تحریکِ آزادی کے دوران ہی رکھ دی گئی تھی جو موتی لال نہرو اور کانگریس کی وراثت ہے۔ مقامی اداروں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن کانگریس کے دورِ حکومت میں ملا۔ اس دور میں یہی دائیں بازو کے نظریات رکھنے والی قوتیں تھیں جو ترقی پسند اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بنتی تھیں۔ “جس بل کی کل تک بی جے پی نے مخالفت کی، آج اسی کے نام پر سڑکیں جام کی جا رہی ہیں۔ یہ محض ہمدردی حاصل کرنے کی ایک چال ہے۔” ورلی میں جس طرح سینکڑوں پولیس اہلکاروں اور گاڑیوں کے قافلے نے عام عوام کی زندگی مفلوج کر دی، وہ بی جے پی کی ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔ جو لیڈر ایک عام خاتون کو دفتر یا گھر وقت پر پہنچنے کا راستہ نہیں دے سکتے، وہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا کریں گے؟ آج ملک کی خواتین کو یہ سوچنا ہوگا کہ جو لیڈر اپنا گھر اور اپنی ذمہ داریاں صحیح ڈھنگ سے نہیں نبھا پا رہے، جن کے ہوتے ایک ڈھونگی سیکڑوں خواتین کی آبرو کو تار تار کرتا ہو وہ خواتین کی خودمختاری کے بارے میں اتنے بے چین کیوں ہیں؟ کیا یہ واقعی آپ کے حق کی لڑائی ہے، یا آنے والے انتخابات کے لیے بنا گیا ایک جال؟ اپوزیشن (کانگریس) کے تیکھے حملوں سے بوکھلائی ہوئی بی جے پی اب سڑکوں پر اتر کر یہ جتانا چاہتی ہے کہ وہ سرگرم ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ سرگرمی محض عوام کو پریشان کرنے والی ہے۔ ورلی کی اس خاتون نے گریش مہاجن کو جو آئینہ دکھایا، وہ پورے ملک کی خواتین کی آواز ہے۔ اقتدار میں بیٹھ کر سڑکوں کو جام کرنا بہادری نہیں، بلکہ انتظامی ناکامی ہے۔
اگر بی جے پی واقعی خواتین کا بھلا چاہتی ہے، تو اسے سڑکوں پر تماشہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں کام کرنا چاہیے اور عوام کو بنیادی سہولیات (جیسے ٹریفک سے پاک سڑکیں) فراہم کرنی چاہئیں۔ مورچے پر ایک ہمت والی خاتون کی چیخیں اقتدار کی ناکامی پر ایک زوردار تمانچہ ہیں۔ اس طرح کی بدنامی کے بعد ناکام حکمرانوں کو اپنے عہدے چھوڑ دینے چاہئیں۔ خواتین کی فکر کرنے والے وزیر کو اگر ایک غصے میں بھری خاتون ‘گیٹ آؤٹ’ کہتی ہے، تو ایسے وزیر کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ عوام اب ان ڈراموں کو بخوبی سمجھتی ہے

RELATED ARTICLES
- Advertisment -spot_img

Most Popular

You cannot copy content of this page

error: Content is protected !!