Malegaon – Staff Reporter

15/اگست 2025ء بروز جمعہ ہندوستان کی آزادی کی 79ویں تقریبات کا شاندار انعقاد تاشقند باغ میں واقع میونسپل کارپوریشن اردو پرائمری اسکول نمبر66، 58، 57 اور 30 میں کیا گیا، مذکورہ اسکولوں سے منسلک ایم بی اے والی بال گراونڈ پر صبح پونے آٹھ بجے قومی پرچم ترنگا کی “رسمِ پرچم کشائی” اسکول نمبر66 اور اسکول نمبر58 کی صدر معلمات یاسمین سردار اور سلمیٰ خورشید کے ہاتھوں انجام پذیر ہوئیں۔ اس موقع پر مذکورہ چاروں اسکولوں کے طلباء و طالبات کے علاوہ اساتذہ، معلمات اور کثیر تعداد میں سرپرست خواتین و حضرات نے اپنی شرکت سے مختلف تعلیمی و ثقافتی تقریبات میں چار چاند لگا دیا۔ یہاں موجود چاروں اسکولوں کے طلباء و طالبات نے دلچسپ اور پُراثر انداز میں قومی گیت اور حبّ الوطنی سے سرشار تقریریں پیش کیں اور حاضرین سے خوب داد و تحسین وصول کیں۔ اردو اسکول نمبر58 کی معاون معلمات کوثر آپا، شیخ سلمیٰ آپا اور بیگ حنا آپا کے ذریعہ تیار کردہ ان بچوں نے بہتریں ترنگا گیٹ اپ کے ساتھ “یومِ آزادی” پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا، تانبولی فیروز سر اور علیم نوری سر کے ذریعہ تیار کردہ طالبات نے قومی پرچم کی عظمت اور جشنِ آزادی پر منظوم قصیدہ خوانی کی، بعدہ اسکول نمبر66، 57 اور 58 کے طلباء و طالبات نے یکے بعد دیگرے بینڈ اور ساؤنڈ کی دھن پر جھنڈی قواعد، لیزم قواعد اور لاٹھی کاٹھی قواعد کے ہاتھ کھیل کر سامعین و ناظرین کو دادِ دینے پر مجبور کردیا، یہاں موجود دیگر طلباء و طالبات نے بھی تالیوں سے ان نمائندہ طلباء و طالبات کی خوب حوصلہ افزائی کی۔
اسی کے ساتھ سٹی پولس اسٹیشن مالیگاؤں کے اے پی آئی تھورات، پی ایس آئی شہباز پٹیل، ہیڈ کانسٹیبل کھیرنار، ٹھاکر اور حوالدار دیوارے اور عملہ کے دیگر اراکین بھی یہاں پہنچے اور یہاں موجود سینکڑوں طلباء و طالبات، اساتذہ و معلمات، غیر تدریسی اسٹاف اور سرپرستوں سے نشہ مخالف عہد خوانی کا اہتمام کیا۔ جسے لائیو نشر کیا گیا، اردو اسکول نمبر 58 کے فعال معاون معلم تانبولی فیروز سر نے تمام حاضرین سے مراٹھی زبان میں “نشہ مخالف عہد” لیا جس کا اردو ترجمہ سلیم شہزاد سر نے پڑھایا اور تمام شرکاء سے یومِ آزادی کے موقع پر اس بات کا عہد لیا کہ وہ کبھی بھی کسی قسم کے نشہ کو قبول نہیں کریں گے، نشہ آور اشیاء سے ہمیشہ دور رہیں گے، اپنی زندگی کو صاف ستھرا، صحت مند اور نشے سے پاک رکھیں گے، اپنے دوستوں، خاندان اور معاشرے کو نشے سے دور رہنے کا مشورہ دیں گے۔ لوگوں کو منشیات کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کی مسلسل کوشش کریں گے، اپنے علاقے، اسکول، کالج یا کام کی جگہ پر منشیات کو پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے اور منشیات کے عادی لوگوں کی مدد کرتے ہوئے انہیں نئی زندگی کا موقع دیں گے۔ اس طرح ’’منشیات سے پاک صحت مند اور با اختیار بھارت‘‘ بنانے کا اجتماعی عزم کیا گیا۔ اس دوران طلباء و طالبات کے ڈسپلین کی برقراری میں عبید سر، اکبر سر، شفیع سر، علیم نوری سر، فیروز سر، مدثر سر، ابوزید سر، ایاز سر وغیرہ اپنی خدمات پیش کیں جبکہ معلمات میں سعدیہ آپا، فرزانہ آپا، کوثر آپا، نازیہ آپا، شاہینہ آپا، صائقہ مشتاق، اربینہ آپا، راشدہ آپا اور قسمت جہاں نے طالبات کے نظم و ضبط پر خصوصی توجہ دی۔ چاروں اسکولوں کے صدور میں یاسمین سردار، سلمیٰ خورشید، سعدیہ اور اخلاق چراغ نے مہمانان کا استقبال کیا۔ سلیم شہزاد سر اور عبید سر نے مشترکہ طور پر نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ روایت کے مطابق میونسپل کارپوریشن تعلیمی شعبے کی جانب سے مہیا کردہ چاکلیٹ تمام طلباء و طالبات میں تقسیم کئے گئے۔