By – Waseem Raza Khan
دل میں ایک سوال ہے، جو صرف میرا ہی نہیں، بلکہ شاید کروڑوں ہندوستانیوں کا ہے کہ جائیں تو کہاں جائیں؟ یہ سوال اب صرف ایک خیال نہیں، بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے۔ یہ سوال تب پیدا ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کی حالت روز بروز بگڑتی جا رہی ہے، اور اب حالات ایسے ہیں کہ ایک عام آدمی کا اپنے ہی ملک سے دل بھر چکا ہے۔
سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما اب صرف اپنے مفاد اور ووٹ بینک کی سیاست میں مصروف ہیں۔ یہ دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں ملک کی عوام کے مسائل سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ ہر طرف مذہبی نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔ معاشرے کو مذہب کے نام پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اب لوگ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں۔ جو ہندوستان کبھی “اتحاد” کی علامت تھا، آج وہاں ہر طرف عداوت اور تلخی کا ماحول ہے۔ جب کوئی دیکھتا ہے کہ روزگار کے مواقع کم ہو رہے ہیں، جب مہنگائی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور ایک غریب خاندان کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہو گیا ہے، تب دل میں ایک سوال آتا ہے – کیا ہمارے آزادی کے متوالوں نے اسی ہندوستان کا خواب دیکھا تھا؟
سیاسی، اقتصادی اور سماجی مسائل سے پریشان ایک سچا ہندوستانی، جس کا دل آج بھی ہندوستان کے لیے دھڑکتا ہے، آج بے حسی کی گہری کھائی میں ڈوب رہا ہے۔ دل میں یہ خیال آتا ہے کہ کیا واقعی ان مسائل کا کوئی حل نہیں ہے؟ کیا ہم ایک ایسی کشتی میں سوار ہیں، جو بغیر پتوار کے ڈوب رہی ہے؟ ایک عام آدمی جو اپنی روزمرہ کی زندگی میں پھنسا ہوا ہے، جسے صرف اپنی اور اپنے خاندان کی فکر ہے، وہ کیا کرے؟ اس کے پاس نہ تو اتنا پیسہ ہے اور نہ ہی وسائل کہ وہ اپنے ملک کو چھوڑ کر کسی اور جگہ جا کر بس سکے۔ وہ سوچتا ہے، “اگر میں اپنے ملک کو چھوڑ بھی دوں، تو کہاں جاؤں؟”
جب ہم دنیا کے دوسرے ممالک کو دیکھتے ہیں، جو ترقی کی نئی نئی اونچائیاں چھو رہے ہیں، جہاں کی حکومتیں اپنے شہریوں کی زندگی کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں، تب ہم اپنے ملک کی حالت پر مایوس ہو جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمارا ملک اور ہمارے رہنما اپنی عوام کے مستقبل کو برباد کر رہے ہیں۔ جس طرح سے ہمارے ملک کی سیاست ہمارے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے، وہ ایک سچا ہندوستانی برداشت نہیں کر سکتا۔
آج ہر ہندوستانی کے دل میں ایک ہی سوال گونج رہا ہے: کیا یہ برائیاں کبھی ختم ہوں گی؟ کیا ہم کبھی ایسے ہندوستان کا حصہ بن پائیں گے، جہاں ایک عام شہری خوشی سے جی سکے، جہاں اسے اپنے مذہب کی وجہ سے ڈرنا نہ پڑے، اور جہاں اس کے بچے بغیر کسی فکر کے سکول جا سکیں؟
کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہندوستان کی یہ پریشانیاں کبھی ختم ہو پائیں گی یا وقت کے ساتھ اور بڑھیں گی؟